Wednesday, 24 April 2013

Allama Muhammad Iqbal (Persian Poetry)علامہ محمد اقبال کی فارسی شاعری

رزقِ خودراز زمین بردن رواست
ایں متاعِ بندہ و مالک خداست
ترجمہ: زمیں سے اپنے لئے رزق کا حصول جائز ہے لیکن یہ ملکیت انسان کی نہیں صرف خدا کی ہے۔

ازرِآخر چہ می زاید؟ فتن!
کس نداند لزتِ قرض حسن
ترجمہ: سود سے سوائے فساد کے اور کس چیز میں اضافہ ہو سکتا ہے (افسوس کہ) بغیر سود قرض دینے کی لذت کسی کو معلوم نہیں!

چیست قرآن؟ خواجہ را پیغامِ مرگ
دستگیری بندۂ بے سازو مرگ!
ترجمہ: قرآن کی حقیقت کیا ہے؟ سرمایہ دار کے لئے موت کا پیغام اور بے سروسامان لوگوں کے لئے سہارا و آسرا۔


یا مصطفےٰ ﷺ برساں خویش راکھ دیں ہمہ اوس
اگر بہ اونہ رسیدی تمام بولہبی است
ترجمہ: خود کو درِمصطفیٰﷺ تک پہنچا کر دم لو۔اس لئے کہ اگر تم اس مقام تک نہ پہینچ سکے تو سمجھ لو کہ پہر بولہبی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آسکے گا۔

ھر کہ عشق مصطفےٰﷺ سامان اوست
بحر و بر در گوشۂ دامانِ اوست
ترجمہ: جسے عشق مصطفیٰﷺ کی دولت حاصل ہے تو گویا تمام خشک و تر اس کے دامن کے ایک گوشہ میں موجود ہیں۔

دوامِ مار سوزِ ناتمام است
چوماہی جز تپش برماحرام است
ترجمہ: ہماری بقا سلگتے رہنے ہی میں ہے۔ اور ہم پر مچھلی کی طرح تڑپتے رہنے کے سوا ہر شے حرام ہے۔

دلبری بے قاہری جادوگری است

دلبری با قاہری پیغمبری است

No comments:

Post a Comment