Thursday, 11 April 2013

ایک خوبصورت نظم از کرشن چندر



" میں می ماؤ
فاؤچنگ علاقے کی عورت
تنگ کے پیڑ کے نیچے
جھیل کے کنارے تیرا انتظار کرتی ہوں۔"

" میں کوانتنگ کے پہاڑوں کا مرد

اپنی یخ بستہ چوٹیوں سے اتر کر جھیل کے جنگلوں سے گزرتا ہوا
رواں دواں ندیوں سے کھیلتا ہوا
جھیل کے اس کنارے پہنچا ہوں
جہاں تو کھڑی ہے۔"

"تم  کیوں آئے ہو مرد؟"
"تم یہاں کیوں کھڑی ہو عورت؟"

"میں جھیل میں تیرتی ہوئی بطخوں کا رقص دیکھتی ہوں۔"

"اور میں جھیل میں تیرتے ہوئے تیرے چہرے کا عکس دیکھتا ہوں۔"

"فاؤچنگ میں اخروٹ شہد کی طرح میٹھے ہیں
اور چاول کے دانے عورت کی انگلیوں کی پوروں کی طرح نازک اور حسین ہیں
فاؤچنگ کی جھیل کے جتنے نغمے ہیں:
وہ موسمِ بہار میں تنگ کے درختوں پر سرخ پھول بن کر کِھل جاتے ہیں
فاؤچنگ علاقے کی عورت اپنے گھر میں مطمعین ہے
اجنبی! اس جھیل کا عکس دیکھ۔"

"میرے کوانتنگ کے پہاڑوں پر سدا برف رہتی ہے
طوفان کے جھکڑ چلتے ہیں
وہاں سرد چٹانیں ہیں
اور ننگے نوکیلے پتھر
نہ اخروت، نہ چاول، نہ جھیل کے نغمے
پھر بھی ماؤ میں تیرا عکس دیکھتا ہوں
کیوں کہ مجھے تجھ سے محبت ہے!"

"اے اجنبی!
میں تیرے لئے کوانتنگ کے برفیلے پہاڑ پر جاؤں گی
اور طوفانی جھکڑوں کا سامنا کروں گی
سرد چٹانوں پر رہوں گی
اور نوکیلے پتھروں پر ننگے پاؤں چلوں گی
اور تنگ کے سرخ پھولوں کو اپنی کوکھ سے پیدا کروں گی
کیونکہ میں عورت ہوں۔"

1 comment: