Tuesday, 16 April 2013

عمر خیام Omar khayyam

اے خواجہ یکے کام رواکن مارا
دم در کش و درکار خدا کن مارا
ماراست رویم و لیک و کج بینی
رہ چارۂ دیدہ کن رھا کن مارا
ترجمہ: اے خواجہ ہمارا ایک مقصد پورا کردے، ذرا خاموش ہو کر ہمیں اللہ کے کام میں لگا دے، اور یہ نہیں ہوتا تو سن لے ہم ٹھیک جا رہے ہیں لیکن تجھے ہر چیز ٹیڑھی نظر آتی ہے۔ جا آنکھوں کا علاج کروا اور ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دے۔

ازبادۂ ناب، لعل شد گوہرِ ما
آمد بہ فغاں، زدستِ ما ساغرِ ما
از بسکہ ھمی خوریم مَی بر سر مَی
مَا، در سرِ مَی شدیم و مَی و سرِ ما
ترجمہ: خالص شراب سےہمارا جوہرِ وجود یا قوت بن گیا ہے۔ ہمارا پیالہ ہمارے ہاتھ سے فریاد کرنے لگا ہے کیونکہ ہم شراب پر شراب اتنی پیتے ہیں کہ شراب ہم میں اور ہم شراب میں سما گئے ہیں۔

چو نیست بہر چہ ھست بہ ھست
چوں ھست بہ ھرچہ ھست نقصان و شکست
انگار کہ ھر چہ ھست درِعالم نیست
پندار کہ ھر چہ نیست درعالم ھست
ترجمہ: جو ہے وہ در حقیقت نہیں ہے اور اگر ہے تو نقصان و خسارہ۔ سمجھ لو کہ دنیا میں جو کچھ موجود ہے وہ معدوم اور معدوم و ناپید چیز موجود ہے۔

در چشم محققاں، چہ زیبا و چہ زشت
منزل کہ عاشقاں چہ دوزخ چہ بہشت
پوشیدن بے دِلاں، چہ اطلس، چہ پلاس
زیرِ سر عاشقاں، چہ بالیں و چہ خشت
ترجمہ: تحقیق پسندوں کی نظر میں اچھے برے کا فرق نہیں ہوتا۔ عاشقوں کی منزل جنت ہو یا جہنم دونوں برابر۔ بے دل و عارف کو ریشم کا لباس ملے یا کھدر، عاشقوں کے سرہانے تکیہ اور اینٹ کی ایک ہی حیثیت ہے۔ اچھے برے،دوزخ، جنت، اطلس پلاس، بالیں و خشت میں فرق کرنے والے بے بصیرت، کم نگاہ اور ہوس پرست انسان ہیں۔

چوں نیست حقیقت یقین اندر دست
نتواں پر امید شک، ھمہ عمر نشست
ھاں تا نہ نہیم جام می ازکف دست
دربے خبری مرد، چہ ھشیار چہ مست
ترجمہ:چونکہ درحقیقت یقین حاصل نہیں ہو سکتا، اسلئے شک کے سہارے ساری زندگی نہیں بیٹھا جا سکتا۔ لہٰذا خبردار جامِ مے سے ہاتھ خالی نہ رکھنا۔ کیونکہ ہشیاربھی بے خبر ہے اور مست بھی بے خبر۔

درد ھر، بر نہال تحقیق نہ رست
زیراکہ دریں راہ کسے نیست درست
ھر کس، ذدہ دست عجز درشافی سست
اِمروز چودئے شناس و فردا جو نخست
ترجمہ: دنیا میں درخت تحقیق آج تک بارور نہ ہوا۔ کیونکہ اس سلسلے میں کسی کا بس نہیں چلتا۔ ہر ایک نے کوشش کی مگر اس کے دستِ کوتاہ کسی نازک شاخ تک پہنچ کر رہ گئے۔ اس واسطے گذشتہ و آئندہ کی فکر چھوڑو۔ امروز پر اکتفا کرو۔

خاکے کہ بہ زیر پائے ھر نادانے ست
کف صنمے و چہرۂ جانانے ست
ہر خشت کہ بر کنگرۂ ایوانے ست
انگشتِ وزیر یا سر سلطانے ست
ترجمہ:یہ مٹی جو نادانوں کے پیروں تلے ہے یا کسی حسین کی ہتھیلی ہے یا چہرۂ گلغداد، اور ھر ایوان کے کنگروں کی اینٹیں کسی وزیر کی انگلیاں یا بادشاہ کے سر ہیں۔ کون ہے جس کی خاک محفوظ رہی ہو؟ ہر ایک مرنے کے بعد خاک ہوا اور یہ خاک کبھی جام و سبو کے کام آئی، کبھی خشت ا گردِ رہ گزر بنی۔

برترز سپہر خاطرم، روز نخست
لوح و قلم و بہشت و دوزخ جست
پس گفت مرا معلّم، از علم دوست
لوح و قلم و بہشت و دوزخ باتست
ترجمہ:میرا دماغ روزِاول ہی سے فلک سے بلند ہے، اسے لوح و قلم، جنت و دوزخ کی حقیقت معلوم کرنے کی فکر تھی مگر میرے استاد نے کہا:"یہ سب تو تیری ہی ہیں۔" 

Myself when young did eagerly frequent
Doctor and Saint, and heard great argument
About it and about; but evermore
Came out by the same door when in I met.
(Translated by Edward Fitzgerald,
Anthology of Islamic Literature,
James Kritzeck, 1964, USA)

ایں کوزہ، چومن عاشق ذادے بودہ است
در بندِ سرِ زلفِ نگارے بودہ است
ایں دستہ کہ برگردن اومی بینی
دستے است کہ درگردن یارے بودہ است
ترجمہ: یہ صراحی کبھی میری طرح سے عاشق زار، کسی حسین کی زلفِ گرہ گیر کا گرفتار تھا۔ اس گردن کے دونوں دستے کسی معشوق کی گردن میں ڈالے ہوئے ہاتھوں کی یادگار ہیں۔

With them the Seed of Wisdom did I sow,
And with mine own hand wrought to make it grow
And this was all the Harvest that I reap’d
“I came like Water, and Wind I go”
(Translated by Edward Fitzgerald,
Anthology of Islamic Literature,
James Kritzeck, 1964, USA)

I sent my soul trough the invisible,
Some letter of that After-life to spent;
And by and by my soul return’d to me,
And answered “I Myself am Heav’n and Hell.”
(Translated by Edward Fitzgerald,
Anthology of Islamic Literature,
James Kritzeck, 1964, USA)

ساقی چہ کنم، کہ دل کبابم زغمت
مدھوش تر، از مست شرابم زغمت
ھر چند کہے خوابیم شرح دھر
باللہ کہ، بیش اذان خرابم زغبت
ترجمہ: ساقی کیا کروں، کہ تیرے غم سے دل کباب، تیری الفت کے نشے میں شراب سے زیادہ سرمست ہوں۔ میری خرابیوں کا کوئی کتنا ہی تفصیلی حال بیان کرے، خدا کی قسم میں اس سے بھی زیادہ خراب نکلوں گا۔
(اکثر لوگ اس رباعی کو عمرخیام سے منسوب کرتے ہیں)



دوریکہ دروآمد و رفتن ماست
آں رانہ بدایت نہ نہایت پیداست
کس می نزنرد مے دریں معنی راست
کاین آمدن از کجا ورفتن بہ کجاست
ترجمہ: جس حلقہ امکان میں ہمارا آنا جانا ہے، اس کی نہ انتہا معلوم نہ ابتدا کا پتہ، اور پھر اس سلسلے میں کوئی صحیح بات بھی نہیں کہتا کہ کہاں سے ہوتا ہے اورجانا کہاں ہے۔

برموئے کہ درد وزلفِ آن صنم است
صد بیعۂ عنبریں برآں موئے صنم است
چوں تیر مدان راست دلش را زیرا
چوں خریزہ دندانش میانِ شکم است
ترجمہ: اس صنم کی دونوں زلفوں کے بال میں عنبر کے سینکڑوں دانے گھلے ہوئے ہیں لیکن یہ نہ سمجھو کہ تیر کی مانند اسکا دل بھی سیدھا ہے، بلکہ خربوزے کی طرح اس کے دانت بھی پیٹ میں پوشیدہ ہیں۔


در فصلِ بہار، اگر بتے حور سرشت
یک ساغرِ می دھد مرا برلبِ کشت
ھر چند بہ نزدِ عامّہ ایں باشد زشت
سگ بہ زمین اگر بدنام بہشت
ترجمہ: موسمِ بہار میں اگر کوئی حورِ طلعت چمن کے کنارے ایک پیالہ بھر کر مجھے دے تو کتّے سے بدتر سمجھنا اگر کبھی جنت کا نام بھی لوں، چاہے یہ بات عوام کےلئے کتنی ہی بری کیوں نہ ہو۔

اے آنکہ گزیدۂ جہانی تو مرا
خوشترز دل و دیدہ و جانی تو مرا
از جان صنما عزیز تو چیزے نیست
صدبار عزیز از آنی تو مرا
ترجمہ: اے وہ شخص کہ تو میرے نزدیک منتخبِ زمانہ ہے۔ مجھے دل، آنکھ سے زیادہ پسند ہے۔ اے محبوب جان سے زیادہ پیاری چیز کوئی نہیں۔ مگر میرے لئے تو اس سے بھی سو درجہ زیادہ پیارا ہے۔

اے وائے براں دل کہ درد سوزے نیست
سو دازدۂ مہر دل افروزے نیست
روزے کہ توبے بادہ بسر خواہی برد
ضایع تر اذاں روز ترا  روزے نیست
ترجمہ: وہ دل قابلِ افسوس ہے جس میں سوز نہیں۔ جو کسی دلبر کی محبت میں دیوانہ نہیں۔ جو دن بادہ و ساغر کے بغیر گزارو گے، اس سے زیادہ بیکار دن کوئی نہ ہوگا۔

درخوام بدم، مرا خرد مندے گفت
کز خواب، کسے، راگل شادی نہ شگفت
کارے جہ کنی، کہ با اَجل باشد جفت
مے خود کہ بزید خاک می باید خفت
ترجمہ:میں نے خواب دیکھا کہ کوئی حکیم کہہ رہا ہے:میاں! سونے سے کسی کی مسرتوں کی کلیاں نہیں کھلیں۔ یہ کام تو موت کی طرح کا ہے۔ اٹھو اور شراب پیو کہ خاک تلےسونا ہے۔ کس قدر خوبصورت اندازِبیاں ہے اور کیا نکتہ آفرینی ہے۔

چنداں بخورم شراب کایں بوئی شراب
آیدز تراب، چوں روم زیر تراب
تابد سر خاکِ من رسد مخموری
از بوئی شراب من شود مست و خراب
ترجمہ:اتنی پینا چاہتا ہوں کہ جب خاک میں جاؤں تو شراب کی خوشبو خاک کے اندر بسی ہوئی ہو اور جب کوئی مےخوار میری قبر پر آئے تو اس کی مہک سے مست ہو جائے۔

ساقی قدمے کہ کارساز است "خدا"
وزرحمتِ خود، بندہ توازاست خدا
مَی خوربہ بہاروبارِ طاعت مفروش
کر طاعتِ خلق بے نیاز است خدا
ترجمہ:اے ساقی! ایک پیالہ دے، کہ کام بنانے والا خدا ہے۔اور وہ بھی اپنی رحمت سے بندوں پر کرم کرتا ہے۔ اے ہمدم! بہار میں شراب پی اور عبادت فروشی نہ کر، کہ خدا مخلوقات کی اطاعت سے بے نیاز ہے۔

اے کردہ زلطف و قہر توضع خدا
در عہدِ ازل، بہشت و دوزخ برپا
بزم تو بہشت است و مرا جرمے نیست
چون است کہ در بہشت رہ نیست مرا؟
ترجمہ: خدا نے روزِ اول تیرے غصے سے دوزخ اور تیری مہربانی سے جنت بنائی۔ اس لئے در حقیقت تیری محفل ہی جنت ہے، اب نہ معلوم، کیوں مجھے بلا خطا جنت میں آنے کا حق نہیں۔

عشق ارچہ بلاست آن حکم خداست
بر حکم خدا ملامتِ خلق چراست؟
چوں نیک و بد خلق بہ تقدیر خداست
پس روز پسین حساب بربندہ چراست؟
ترجمہ: عشق کو بلا کہنے والو! یہ بلا بھی تو خدا کی طرف سے ہے۔ اب حکم کی تعمیل کرنے والی مخلوق کی مذمت کیوں کرتے ہو؟ اگر دنیا والوں کے اچھے برے کام تقدیر کے مطابق ہیں تو قیامت میں ہم بندوں کا حساب کیوں ہوگا؟

چندیں غم مال و حسرت دنیا چیست
ھرگز دیدی، کسے کہ جاوید بزیست؟
ایں یک نفسے کے درتنست عاریت است
باعاریتے، عاریتے باید زیست
ترجمہ: یہ غمِ مال و حسرتِ دنیا کتنی اور کب تک؟ کیا تم نے کبھی یہ بھی دیکھا ہے کہ کوئی ہمیشہ زندہ رہا ہو؟ ارے بندۂ خدا! ایک لمحے کیلئے بدن میں نفس کی آمدوشد ہےاوروہ بھی عاریتا۔ اس لئے عاریتی چیز سے عاریتی اور وقتی فائدہ اٹھا لینا چاہیئے۔



file:///D:/Blog/%D8%B9%D9%85%D8%B1%20%D8%AE%DB%
8C%D8%A7%D9%85/Omar%20Khayyam%
20Rubaiyat%20%20%20All%20about%20the%20most%
20famous%20poem%20in%20the%20world%20%E2%80%93%
20up%20to%20date%20news%20and%20comment%
20%20%20Page%203.htm

file:///D:/Blog/%D8%B9%D9%85%D8%B1%20%
D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%85/Rubaiyat%20of%
20Omar%20Khayyam%20%20%20Exhibitions.htm

file:///D:/Blog/%D8%B9%D9%85%D8%B1%20%D8%
AE%DB%8C%D8%A7%D9%85/Look%20Here%
20%20RUBAIYAT%20OF%20OMAR%20KHAYYAM,%20illus.%
20by%20Robert%20Stewart%20Sherriffs%20(post%203%
20of%203)%20%20%20Ragged%20Claws%20Network.htm

file:///D:/Blog/%D8%B9%D9%85%D8%B1%20%D8%
AE%DB%8C%D8%A7%D9%85/Look%20Here%20%
20RUBAIYAT%20OF%20OMAR%20KHAYYAM,%
20illus.%20by%20Robert%20Stewart%20Sherriffs%
20(post%202%20of%203)%20%20%20Ragged%
20Claws%20Network.htm

file:///D:/Blog/%D8%B9%D9%85%D8%B1%20%
D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%85/Look%20Here%
20%20RUBAIYAT%20OF%20OMAR%20KHAYYAM,%
20illus.%20by%20Robert%20Stewart%20Sherriffs%
20(post%201%20of%203)%20%20%20Ragged%
20Claws%20Network.htm

No comments:

Post a Comment