Friday, 19 April 2013

دعا دعا وہ چہرہ


دعا دعا وہ چہرہ
حیا حیا وہ آنکھیں
صبا صبا وہ زلفیں
چلے لہو گردش میں
رہے آنکھ میں دل میں
بسے مرے خوابوں میں
جلے اکیلے پن میں
ملے ہر اک محفل میں
کبھی کسی چلمن کے پیچھے
کبھی درخت کے نیچے
کبھی وہ ہاتھ پکڑتے
کبھی ہوا سے ڈرتے
کبھی وہ بارش اندر
کبھی وہ موج سمندر
کبھی وہ سورج ڈھلتے
کبھی وہ چاند نکلتے
کبھی خیال کی رو میں
کبھی چراغ کی لو میں
کبھی بال سکھائے آنگن میں
کبھی مانگ نکالے درپن میں
کبھی چلے پوَن کے پاؤں میں
کبھی ہنسے دھوپ میں چھاؤں میں
کبھی پاگل پاگل نینوں میں
کبھی چھاگل چھاگل سپنوں میں
کبھی پھولوں پھول وہ تھالی
کبھی دیون بھری دیوالی میں
کبھی سجا ہوا آئینے میں
کبھی کھڑا ہوا وہ زینے میں
کبھی اپنے آپ سے جنگوں میں
کبھی جیون موج ترنگوں میں
کبھی نغمہ نور فضاؤں میں
کبھی مولا حضور دعاؤں میں
کبھی رکے ہوئے کسی لمحے میں
کبھی دکھے ہوئے کسی چہرے میں
وہی چہرہ بولتا رہتا ہوں
وہی آنکھیں سوچتا رہتا ہوں
وہ زلفیں دیکھتا رہتا ہوں

عبیداللہ علیم

2 comments: