Tuesday, 16 April 2013

زلفِ پریشاں ازعبدالحمید عدم

http://1.bp.blogspot.com/_Wte9z1MWq1k/TIWMt4I-SeI/AAAAAAAAA58/x1EZ7eQQ9e8/s1600/Abdul+Hameed+Adam+Autograph.jpg

 خدا کو سجدہ نہ کر، گل رخوں سے پیار نہ کر
مسافرت میں محبت کے کاروبار نہ کر

وہ چیز جس سے عدم میکدہ عبارت ہے
وہ چشمِ یار ہے یا دورِ جام ہے میرا

بلا سے ہم کو نہ دنیا ملے نہ دین ملے
سحر کے وقت مگر روز اک حسین ملے

ساقی تجھےسعادتِ دارین ہو نصیب
روح عدم سے عقل کا کانٹا نکال دے

پیتا ہوں حادثات کے عرفان کے لئے
مے ایک تجزیہ ہے غمِ روزگارکا

دی جس نے اہلِ شوق کو ترغیبِ مے نوشی
میرا خیال ہے کہ غمِ روزگار تھا

مَے سی حسین چیز ہو اور واقعی حرام
میں کثرتِ شکوک سے گھبرا کے پی گیا

یوں گیا وہ مہ جبیں
جیسے عہدِ گل گیا

چند قطروں سے فقیروں کی نہ دعوت کیجیئے
رہنے دیجیئے یہ کسی اور کے کام آئیں گے

کیا خبر تھی کہ محبت سی مقدس شے بھی
میری بدنامی ہے اور آپ کی رسوائی ہے
زندگی کو ذرا رنگیں بنانے کے لئے
میں نے اکثر تیری آنکھوں کی قسم کھائی ہے

عدم دل کی بے چینیاں کہہ رہی ہیں
طبعیت کہیں مبتلا ہو چکی ہے

اگر روتے روتے بہت تھک گئے ہو
تو اے رونے والو ذرا مسکرا دو
خدا بھی عدم حادثہ من گیا ہے
اسے بڑی عاجزی سے بھلا دو

گماں نہ کر کہ مجھے جراتِ سوال نہیں
فقط یہ ڈر ہے تجھے لاجواب کردوں گا

ہوئی ہے جب بھی عدم ان کو دیکھنے کی ہوس
بڑے خلوص سے بے اختیار دیکھا ہے

کہا تھا محبت نے کچھ زیرِ لب
جنوں ہنس پڑا موت شرما گئی
عدم وہ چھلکتی ہوئی سی نظر
مرے ظرفِ ہستی کو چھلکا گئی

کرتے ہیں انکھڑیوں سے جو معشوق اے عدم
وہ سرمدی کلام بڑا خوشگوار ہے

دل کو سکوں ہو تو عدم ترک مے کردوں
ہے ترکِ مے حرام کہ دل کو سکوں نہیں

اے مے کشو! بہار کی تعظیم چاہئے!
کچھ بھی ہو تو جیب و گریباں بکھیر دو

موسمِ گل میں یہ تکلّف کیا
آؤ دامن کو تار تار کریں

ایک چھوٹی سی آزمائش میں
کٹ گئی زندگانیاں افسوس
دکھتی دکھتی محبتیں صد حیف
جلتی جلتی جوانیاں افسوس

غمِ حیات کا مفہوم پوچھنے والے
یہ وہ سوال ہے جسکا کوئی جواب نہیں

ہوش میں ہو تو میکدے سے عدم
کب کوئی  بادہ خوار اٹھتا ہے

جو بھولتی ہی نہیں اے عدم بھلائے سے
وہ چار دن کی ملاقات بھول جاؤں گا

عشق جولانئ طبعیت ہے
عشق نادانئ شباب نہیں

ذکر محشر مبالغہ تو نہیں
واقعی آپ بھی وہاں ہوں گے

وہ آئینے کے مقابل ہوں جب خدا بن کر
ادا و ناز سراپا نماز ہوتے ہیں

رخ سے نقاب اٹھا کہ بڑی دیر ہو گئی
ماحول کو تلاوتِ قرآں کیے ہوئے

کچھ سمجھ میں نہیں آتا یہ تماشہ کیا ہے
جو حسین شکل ہے آنکھوں میں سما جاتی ہے

نہ پوچھو یہ صوفی منش لوگ شب کو
کہاں جا رہے ہیں وضو کے بہانے

خرد کا مشورہ تسلیم کرکے
دلِ ناداں کو ہم نے ما ڈالا

ہم بھلا کس کو یاد آئیں گے
لوگ تم کو بھی بھول جائیں گے

ہم آفتاب پرستوں کو فصلِ گل میں عدم
پلا شراب ستاروں کے آبگینوں میں

عدم کمی نہیں دنیا میں نعمتِ غم کی
ہمارا رزق ہمیں بے شمار ملتا ہے

کیسی محبت کیسی چاہت ہم پر سب کچھ روشن ہے
یونہی ذرا یہ شوق ہوا تھا، آؤ دل برباد کریں

جوانی تھی یا مَے پرستی کا دور
بڑے میکدے تھے خیالات میں

No comments:

Post a Comment