Tuesday, 9 April 2013

عبید اللہ علیم، چند اشعار


اور یہ عشق و ہوس کی دنیا
تشنگی کے سوا کیا پائے گی

جب ہم مانوس نہیں تھے درد کی ماری دنیا سے
عارض عارض رنگ بہت تھے آنکھوں آنکھوں سحر بہت

زندگی نے جو سکھایا تھا علیم
زندگی کیلیے ہم بھول گئے

یہ سروتنی، محشر بدنی، گل پیرہنی،گوہر سخنی
سب حسن تمہارا بے قیمت گر ہم سے داد نہ پاؤ گی

یوں گلیوں بازاروں میں آوارہ پھرتے رہتے ہیں
جیسے اس دنیا میں سبھی آئے ہوں عمر گنوانے لوگ

جس تمنا میں گزرتی ہے جوانی میری
میں نے اب تک نہیں جانا وہ تمنا کیا ہے

کوئی دیوانہ کہتا جاتا تھا
زندگی یہ نہیں مرے بھائی

پلٹ سکوں ہی نہ آگے ہی بڑھ سکوں جس پر
مجھے یہ کون سے رستے لگا گیا اِک شخص

اک وہم ہے یہ دنیا اس میں
کچھ کھوؤ تو کیا اور پاؤ تو کیا

1 comment:

  1. Nice post. Ι was сheсking constantly this blog and I'm impressed! Extremely useful information specially the last part :) I care for such info a lot. I was looking for this certain information for a long time. Thank you and best of luck.

    My web page ... 3Klix.Com

    ReplyDelete