Friday, 21 June 2013

ساغر صدیقی

ساغر صدیقی


زندگی جبرِ مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں
آؤ اِک سجدہ کریں عالمِ مدہوشی میں
لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں

جوگیوں کو پکارنے والی
جوگ تیرے لبوں کی لالی ہے
ابروؤں کی حسین چوکھٹ پر
عشق کا دیوتا سوالی ہے
 پلا ساقیا! کوئی جامِ غزالی
بھٹکتی بصیرت لہو رو رہی ہے

اے کہ تخلیقِ بحر و بر کے خدا
مجھ پہ کتنا کرم کیا تو نے
میری کٹیا کے دیپ کی خاطر
آندھیوں کو جنم دیا تو نے

خرد کا لیتے ہیں نام ساغر
جنوں کی عظمت کو بیچتے ہیں

ہر بھکاری پا نہیں سکتا مقامِ خواجگی
ہر کس و ناکس کو تیرا غم عطا نہیں ہوتا

کچھ نہیں مدعا فقیروں کا
درد ہے لادوا فقیروں کا
میکدے کی حدود میں ہونگے
کیا بتائیں پتہ فقیروں کا

 آپ کی زلفِ پریشاں کا تصور توبہ
نگہت و نور کے دھاروں کو سزا ملتی ہے
جب وہ دانتوں میں دباتے ہیں گلابی آنچل
کتنے پر کیف نظاروں کو سزا ملتی ہے

ہاں میں نے لہو اپنا گلستاں کو دیا ہے
مجھ کو گل و گلزار پہ تنقید کا حق ہے
مجروح جو کر دے دلِ انسان کی حقیقت
اس شوخئی گفتار پہ تنقید کا حق ہے

اے ستاروں کو چاہنے والو
آنسوؤں کے چراغ حاضر ہیں
رونق جشنِ رنگ و بو کے لئے
زخم حاضر ہیں داغ حاضر ہیں

حیات و موت کی تفریق کیا کریں ساغر
ہماری شانِ خودی کہہ رہی ہے سب اچھا


No comments:

Post a Comment