Friday, 21 June 2013

نیک دل لڑکیو

نیک دل لڑکیو  ----
آرزو کی نمائش سے گزرو تو چاروں طرف دیکھنا
اور پھر جب تمہارے لہو میں کسی کا لہو سرسرائے
ستاروں میں آنکھیں چھپا کر دعا منگنا
قیدیوں، شاعروں اور محکوم آبادیوں کے لئے
اور بیمار بچوں کی ماں کے لئے
اور پھر نرم ہونٹوں کی حدّت سے
جب چھاتیوں میں ہوا سنسناتی ہو
نیک دل لڑکیو
یاد کرنا انہیں جن کی قسمت میں لکھے ہوئے دائرے
ایک سے رات دن اور تنہائیاں ہیں
ہمارے پہ چاند نکلے نہ نکلے
کہ ہم ٹہنیوں سے بچھڑ کر سنبھلنے نہ پائے
ہوا کے کندھوں پر روتے ہوئے
دور ہوتے گئے
اور جب لوٹنے کی حدوں سے بھی آگے نکل آئے
پیچھے سے آواز آئی ---- پلٹ آؤ
ہم نے تمہارے لئے آج آنسو بہائے ہیں
ہم رات کے مہماں ہیں
مگر نیک دل لڑکیو
آرزو کی نمائش سے گزرو تو چاروں طرف دیکھنا
اور آنکھوں کی تحریر پڑہنا
ہماری طرح جب تمہارے سفر کا مسافر ہوکے ستم سے گزرے
اس سے کہنا ٹھہر جاؤ
میرے لہو میں تمہارے لئے آرزو ہے
تو اے نیک دل لڑکیوں! الوداع!
یاد رکھنا
جب ہماری حقیقت سے گزرو تو آنسو بہا کر دعا مانگنا
قیدیوں
شاعروں
اور محکوم آبادیوں کیلئے
اور بیمار بچوں کی ماں کے لئے
اور اس کے لئے
جو تمہارے بدن کا مسافر ہے لیکن ---
ہمارے بدن کی شہادت ہے۔

عباس اطہر


No comments:

Post a Comment